ملا واحدی صاحب نےلکھا

دہلی میں ایک قوم رہتی تھی جسکو شیدے کہا جاتا تھا یہ لوگ شادیوں کےسیزن میں لڑکی والوں کےھاں سے جہیز کا سامان اٹھا کر لڑکے والوں کے گھر پہنچاتے جسکا انکو بہت قلیل معاوضہ ملتا مگر یہ لوگ بخوشی قبول کر لیتے تھے اور باحفاظت سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر نقصان کے پہنچا دیتے …

لوگ خود بھی سامان ان کے حوالے کر کے مطمئن ہوتے تھے .. شادیوں کا سیزن ختم ہونے کے بعد یہ لوگ مساجد کےباہر بیٹھ کر بھیک مانگا کرتے تھے ایک دفعہ ایک انگریز جامع مسجد دہلی کی سیر کو آیا تو مسجد سے باہر بیٹھے ایک شیدے نے آگے بڑھ کر اس کو چمڑے کے جوتے پیش کیے اور اس کے جوتے بطور حفاظت کے اپنے پاس رکھ لیے کچھ دیر بعد جب انگریز مسجد سے باہر آیا تو شیدے نے اسکو اسکے جوتے دئیے اور اپنے چمڑے والے جوتے وصول کر لیے انگریز نے اس دور کے مطابق آنہ دو آنے اسکو جوتوں کا کرایہ یا اپنے جوتوں کی حفاظت کے ادا کیے اسی دوران پرس جیب میں رکھتے ہوۓ اسکا پرس زمین پر گر گیا انگریز اپنی گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا جب شیدے کی نظر اس پرس پر پڑی تو اس نے پرس اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا دوسرے دن صبح سویرے انگریز گاڑی لیکر جامع مسجد دہلی پہنچا ابھی وہ اپنی گاڑی سے اتر ہی رہا تھا کہ وہی شیدا بھاگتا ہوا آیا اورکہنے لگا صاحب یہ پرس آپکا ہے انگریز نے کہا ھاں میں اسی کی تلاش میں تو آیا ہوں انگریز نے پرس لیکر چیک کیا تو اسکی تمام رقم اور دیگر چیزیں جوں کی توں اس میں موجود تھیں انگریز نے خوش ہو کر سو روپے بطور انعام اس شیدے کو دینے چاہے تو اس نے وصول کرنے سے انکار کر دیا انگریز کو خیال آیا کہ پرس میں چیونکه رقم بہت بڑی تھی شاید شیدہ سو روپے کو کم جان کر وصول نہیں کر رھا انگریز نے ایک سو روپے اور نکالے اور شیدے کو دو سو دینے چاہے تو شیدے نے کہا صاحب میں آپ سے یہ رقم وصول نہیں کرسکتا انگریز نے پوچھا وہ کیوں؟

شیدے نے جواب دیا صاحب اگر میں نے آپ سے یہ رقم لے لی تو کہیں آسمانوں پر آپ کا نبی یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ہمارے نبی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نا کہہ دیں دیکھو تمہارے ایک امتی نے میرے ایک امتی سے ناجائز رقم قبول کر لی ہے تو آپ کے نبی کے سامنے میرے نبی صلی اللّه علیہ وسلم ّ کا سر شرم سے جھک جاۓ گا.

میرےعزیزو! دھلی کا ایک غریب ان پڑھ شیدا آج دنیا کے تعلیم یافتہ نوجوانو کو ایک پیغام دے رھا کہ دیکھو نوجوانو! تم کبھی بھی کوئی ایسا کام نا کرنا جس سے آسمانوں پر تمہارے نبؐی کا سر تمہاری وجہ سے شرم سے جھک جاۓ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *