جنت کی ٹیکنولوجی

چند مہینے پہلے ٹی وی کے ایک مشہور اسلامک چینل کا ایک کلپ دیکھا جس میں ایک بچہ سوال کرتا ہے کہ کیا جنت میں انٹرنیٹ ہوگا؟ تو ٹی وی اینکر ہکا بکا رہ گیا اور بچے کو ایسے دیکھنے لگا جیسے اس نے بڑا بے تکا سوال کردیا؛ بھئی جنت کا انٹرنیٹ یا اس طرح کی کسی ٹیکنولوجی سے کیا لینا دینا؟ یہ تو دنیا کے بکھیڑے ہیں!

یہ کلپ دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی اور اپنی ماں یاد آگئی۔ بچپن میں میری مرحومہ ماں نیکی کی باتیں، انکی جزا اور برائی کی سزا سے متعلق بتایا کرتی تھیں۔ ان باتوں میں ایک یہ بھی تھی کہ جنت میں آپ جو خواہش کروگے وہ پوری ہوگی۔ آپ جو سوچو گے وہ آپ کے سامنے آجائے گا۔ بچپن میں کھانا پینا ہی سب سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے، سو سمجھانے کیلئے کہتیں اگر تم کچھ کھانا چاہو گے تو وہ تمہارے پاس آجائے گا جیسے کوئی پھل فروٹ یا کوئی بھی چیز۔ یعنی آپ کو اسکے لئے کوئی مشقت یا دوڑ دھوپ نہیں کرنی پڑے گی، بس ادھر خواہش کی ادھر پوری ہوگئی۔

اس وقت تو ایسے ماحول کا فقط تصور ہی کیا جا سکتا تھا، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ یقین سا ہوتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا پر کیسے ہوگا اسکا کوئی آئیڈیا نہیں تھا۔ لیکن اب ٹیکنولوجی میں ترقی کے ساتھ یہ باتیں پریکٹیکل لگتی ہیں۔ سب سے پہلے تو ٹی وی رموٹ کنٹرول کی آمد اور دور سے اسکے بٹن دبانے سے ٹی وی کھلتا یا بند ہوتا تھا یا اسکے دوسرے بٹن کام کرتے تھے۔ پھر کئی اورچیزوں میں اسکا عمل دخل آگیا جیسے کھلونے گاڑیاں، پھر کھلونے جہاز اور چند سال سے بڑے بڑے ڈرون رموٹ کنٹرول ٹیکنولوجی سے چلائے جانے لگے۔ اسی طرح موبائل فون کی آمد کے بعد تو جیسے انقلاب آگیا، بس نمبر ملائیں اور سات سمندر پار بیٹھے لوگوں سے بغیر تار کے بات کرلیں۔ پھر سمارٹ فون نے تو جیسے دنیا ہی بدل کر رکھ دی۔ ساتھ ہی آواز (وائس کمانڈ) اور حرکت (موشن) سینسر سے چیزوں کو چلانے والی ٹیکنولوجی آگئی جس نے رموٹ کنٹرول کو جیسے چھٹی دیدی۔ اب ادھر آپ نے زبان سے حکم نکالا وہاں حکم کی تعمیل ہونے لگی۔ آج کل آپ اپنے بہت سے ڈیوائسز وائس کمانڈ سے چلاتے ہیں جن میں بلب، پنکھے، دروازے اور بہت ساری دوسری اشیا آپ کے زبان سے نکلے حکم پر چلتی اور بند ہوتی ہیں۔ موبائل فون آپ کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے سرچ کرنے اور کال ملانے سے لیکر ایپس کھولنے، بند کرنے کے علاوہ بہت سارے کام انجام دیتا ہے جن میں دور بیٹھے آپ گھر، دکان یا آفس کی نگرانی اور وہاں کوئی کل پرزے چلا اور بند کرسکتے ہیں۔

ٹیکنولوجی کی ترقی اور اسکی قبولیت ہمارے دور کی بڑی کامیابی ہے۔ اس وقت دنیا کو گلوبل ولیج کہا جا تا ہے۔ اگر دنیا میں کہیں بھی کوئی اہم واقعہ یا کوئی دریافت ہوتی ہے تو عموما چند منٹوں میں دنیا کے ہر کونے میں اس کی آگاہی مل جاتی ہے اور پھر لوگوں کو یقین بھی ہو جاتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔

آجکل معذور لوگوں کو مصنوعی اعضا لگائے جارہے ہیں، جو اعصابی نظام سے جوڑ دئے جاتے ہیں۔ اس طرح انسان اپنی سوچ کے ذریعے اصل اعضا کی طرح انہیں حرکت دیتا ہے۔ اس ٹیکنولوجی کو نیورالنک کہا جا رہا ہے اور اس کے عام ہونے کے بعد شاید ہر انسان اپنی سوچ کی مدد سے وہی کچھ عام زندگی میں کر سکے گا جو وہ آجکل وائس کمانڈ سے کر رہا ہے جیسے بلب، پنکھا، ٹی وی وغیرہ کھولنے اور بند کرنے یا کوئی بھی کام کرنے کیلئے آپ فقط سوچیں گے اور وہ ہوجائے گا۔ یہ تو انسانی سوچ اور کھوج ہے جو اتنی شاندار ٹیکنولوجی بنا کر انسانی زندگی کو سہل بنا رہی ہے لیکن اللہ، جس نے اس کائنات اور انسان کو تخلیق کیا، اسکی ٹیکنولوجی یقیناً بہت ایڈوانس ہوگی بلکہ اگر کہا جائے کہ وہ ٹیکنولوجی کی انتہا ہوگی جسکے ذریعے جنت میں انسان جو خواہش کرے گا وہ فوراً پوری ہوجائے گی۔

ایسی ٹیکنولوجی کی مثالیں ۱۴۰۰ سال پہلے سے ہمارے سامنے ہیں لیکن ہم اپنے ذہن و خیال کی پستی کی وجہ سے ان کی بلندی اور روح تک نہیں پہنچ پاتے۔ چند ایک درج ذیل ہیں۔

1۔ واقعہ معراج: واقعہ معراج بجائے خود ٹیکنولوجی کا شاہکار تھا۔ جس میں حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم کو ٹائم اور اسپیس کی حدود سے نکل کر کائنات کی انتہا تک کا سفر رات کے چند لمحوں میں کرایا گیا۔

• آجکل ایسی ہی ایک ٹیکنولوجی پر سائنسدان کام کر رہے ہیں جسے “ورم ہول” کہا جارہا ہے اور اس کا تھیم یہی ہے کہ اگر انسان اس میں کامیاب ہوگیا تو دنیا کے چند گھنٹوں کے اندر کسی گیلیکسی کی سیر ممکن ہوجائے گی، لیکن اسے عمل میں لانے میں شاید ابھی کئی صدیاں یا ہزاروں سال لگ جائیں۔

• فلم “انٹر اسٹیلر” میں ورم ہول دکھایا گیا ہے اور اس فلم میں ایک کردار خلا میں 2 سال کے قریب وقت گذارتا ہے اور جوان رہتا ہے، جب کہ زمین پر اس دوران 80 سال گذر جاتے ہیں۔

2۔ معراج سے واپسی پر مکہ مکرمہ میں حضرت محمد ﷺ سے جب بیت المقدس کی تفاصیل پوچھیں گئیں تو مسجد القدس آپ ﷺ کے سامنے لاکر رکھ دی گئی، اور آپ ﷺ نے دیکھ دیکھ کر اسکی ساری تفصیل بیان کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “پھر مسجد کو (میرے سامنے) لایا گیا، میں دیکھ رہا تھا حتی کہ عقال یا عقیل کے دروازے کے پاس رکھ دی گئی، میں اس کا وصف بیان کرنے لگا اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا (حدیث السلسلتہ صحیحہ 2192)”۔

• شاید یہ بیت المقدس کا کوئی ہائی ٹیک ملٹی ڈائمینشنل ہولوگرام تھا جو آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا جسے دیکھ دیکھ کر آپ نے القدس کی تفصیلات بتائی ہونگی۔

• ہولوگرام کسی چیز کا ورچوئل تھری ڈی ماڈل ہے جسے آپ کسی اسکرین کے مقابلے سامنے کے بجائے چاروں طرف سے دیکھ سکتے ہیں۔ ہولوگرام پر کامیابی سے تجربات جاری ہیں۔ ہولوگرام کو آپ “اسٹار وار” مووی میں دیکھ کر اندازا لگا سکتے ہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے۔

3۔ واقعہ معراج ہی کے دوران آسمان کی بلندیوں سے حضرت محمد ﷺ کو چار نہریں نظر آئیں؛ جن میں سے دو کے متعلق انہیں بتایا گیا کہ یہ دریائے نیل و فرات ہیں (صحيح بخاري، 3887)۔

• انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن سے نظر آنے والے زمینی اجسام میں دریائے نیل و فرات بھی شامل ہیں۔ جبکہ یہی بات حضرت محمد ﷺ ۱۴۰۰ سال پہلے بتا گئے۔ کیا اس وقت کوئی تصور کر سکتا تھا کہ صدیوں بعد خلاء سے کبھی انہی چیزوں کو اسی طرح دیکھا جائے گا۔ کیا اب بھی واقعہ معراج اور اس کے ٹیکنولوجیکل کمال میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟

4۔ قیامت کے دن جہاں اگلے پچھلے اربوں، کھربوں انسان ایک ہی میدان میں جمع ہونگے وہاں کیلئے کہا گیا ہے کہ جہنم کو گنہگاروں کے سامنے لایا جائے گا “اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے؛ (القرآن، سورة الكهف ۱۰۰)”۔ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ جبکہ حدیث کے مطابق اسکی تپش 500 سال دور سے محسوس کی جا سکے گی یعنی جہنم شاید سورج سے کہیں زیادہ گرم اور بڑی ہوگی جبھی اسکی تپش اتنا دور سے محسوس کی جاسکے گی۔ شاید قیا مت کے دن بھی کوئی ملٹی ڈائمینشنل ہولوگرام ہوگا یا ملین گیگا بائیٹ اسپید کے ساتھ کوئی بہت بڑی اسکرین جس پر جہنمیوں کو جہنم میں جانے سے پہلے میدان حشر میں ہی جہنم دکھادی جائے گی۔ میدان حشر میں جنتی بھی ہونگے اور اسی طرح جنت انکے سامنے لائی جائے گی “اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی؛ سورة ق، ۳۱)”۔ یا شاید اگلے جہان میں ٹائم اور اسپیس کے ڈائمینشن ہماری دنیا سے مختلف ہونگے اور جسطرح آجکل دنیا گلوبل ولیج ہے اسی طرح آخرت میں دوریوں کے باوجود فاصلے سکڑ جائیں گے۔

• اسکا صحیح تصور کرنا تو شاید ممکن نہ ہو لیکن جادوئی فلموں جیسے کہ “ہیری پوٹر” وغیرہ کو دیکھنے سے ایسی باتوں کا تصور کیا جاسکتا ہے جسمیں اداکار ایک پردے کے اس پار جاتے ہیں تو دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔

5۔ روز محشر نامہ اعمال ہاتھ میں تھما دیا جائے گا جس میں زندگی بھر کی گئی ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر ہر برائی درج ہوگی (سورة الزلزلة)۔ دنیا میں لوگوں کی بایوگرافی کی کتب جن میں ان لوگوں کی زندگی کے فقط خاص خاص احوال درج ہوتے ہیں کئی سو صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں، جبکہ نامہ اعمال میں انسان کی زندگی کے لمحے لمحے کی داستان ہوگی۔ تو آپ اندازہ کیجئے کہ کتنی ضخیم کتاب ہوگی۔ کیا یہ کوئی کاغذ والی کتاب ہوگی؟ نہیں بلکہ شاید یہ کوئی موبائل یا آئی پید ٹائپ کی بہت ہی ایڈوانس ڈوائس ہوگی جو کسی بھی انسان کی پوری زندگی کی ہولوگرافک پریزینٹیسن پر مشتمل ہوگی اور وہ انسانی ذہن سے کنٹرول ہونے والی ہوگی جس سے انسان اپنی زندگی کے کسی لمحے کے فعل کو اس میں موجود اور زندہ پائے گا اور اپنی سوچ کے ساتھ آسانی کے ساتھ اسکی ورق گردانی کر سکے گا۔

6۔ جب جنت اور جہنم آباد ہوجائیں گی، تب ان کے باسی ایک دوسرے سے مکالمہ بھی کریں گے (سورة اعراف آیت ۴۴ سے ۵۰)۔ حدیث میں ہے کہ “جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجے کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے (جامع ترمذی ۲۵۳۱ و دیگر)” اور “بہت سی جنتیں ہیں (صحیح بخاری ۳۹۸۲)”۔ اس سے لگتا ہے کہ جنت شاید سینکڑوں سیاروں پر مشتمل ہوگی اور ایک پوری کائنات ہوگی؛ قدرتی طور پہ جہنم ان سے کہیں دور واقع ہونی چاہئے تو جنت و جہنم کے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر کس طرح آمنے سامنے کی طرح باتیں کر سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ رابطہ بھی کسی بہت بڑی اور طاقتور لیکن دوطرفہ اسکرین کے ذریعے ہوگا جو انتہائی ہائی ٹیک انٹرنیٹ سے منسلق ہوگی اور دونوں طرف کے لوگ بلکل آمنے سامنے کی طرح ایک دوسرے سے باتیں کرسکیں گے۔

7۔ جنتیوں کو محلات اور سلطنتیں یا جاگیرین عطا ہونگی۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ جنتی اپنے خیمے (یا محل) کے سب حصوں کو دیکھ سکے گا جبکہ دیگر لوگ نہ دیکھ پائیں گے۔شاید جنتی اپنی اپنی سلطنتوں کو ہائی ٹیک سی سی ٹی وی کی مدد سے مانیٹر کر سکیں گے۔ کیونکہ جنت زمین کی طرح محدود نہ ہوگی بلکہ اسکی وسعت “آسمانوں اور زمین” جتنی ہوگی۔ بلکہ وہ وقت ٹیکنولوجی کا شہکار ہوگا اور اس وقت کی کائنات جنتیوں کی سیر گاہ ہوگی۔

اسلئے آجکل کے نوجوانوں سے میری گذارش ہے کہ انٹرنیٹ پر گیم کھیل کر اور دیگر فضول چیزوں پر اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے جنت کی تیاری کریں جہاں کی انٹرنیٹ لامحدود اور کائنات کی وسعتوں کو چھوتی ہوگی۔ “دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔ جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لیئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (سورة الحدید ۲۱)”

وَاللّٰہ اَعلَم بِالصَّواب۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *