ایک خاتون نے ایک خط لکھا جو سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہے

ایک خاتون نے ایک خط لکھا جو سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہے
میرے پیارے شوہر: میرے پیارے بھائی: میرے پیارے بیٹے۔

گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کو دو قسم کی خواتین ملیں گی۔
?
پہلی قسم:
وہ عورت جو عزیز مصر کی بیوی کی طرح بیماری میں مبتلا ہو گئی ہے، اس نے اپنے آپ کو خوبصورت بنایا ہے، خوشبو لگا رکھی ہے اور میک اپ کیا ہے، اور اس کی زبان حال ہر دیکھنے والے کو کہتی ہے: میں تمہارے لیے تیار ہوں۔

دوسری قسم:
وہ عورت جو پردہ کرتی ہے اور حجاب کرتی ہے، لیکن حالات نے اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے باہر جانے پر مجبور کر دیا، اور وہ زبان حال سے گویا حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کی طرح یہ کہتی ہے : ’’جب تک چرواہے چلے نہ جائیں ہم اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلائیں گی اور ہمارا باپ بوڑھا ہے۔‘‘
?
پہلی قسم کی عورت کے ساتھ یوسف علیہ السلام کی طرح برتاؤ کریں، اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور کہو، “خدا کی پناہ”۔
?
اور دوسری قسم کی عورت کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام جیسا برتاؤ کرو، شائستگی سے مدد کرو، اور اپنا راستہ لو،قرآن فرماتا ہے “اور اس نے ان ( بکریوں) کو پانی پلایا اور پھر سائے میں چلے گئے”۔

– یوسف علیہ السلام کی عفت ان کے عزیز مصر بننے کا ذریعہ بن گئی۔
اور موسیٰ علیہ السلام کی خدمت کی وجہ سے خدا نے انہیں ایک اچھی بیوی اور پناہ دی تھی۔

اے اللہ ہمیں عفت اور پردہ عطا فرما۔

عورت کا لباس اس کے باپ کی پرورش، اس کے بھائی کی غیرت، اس کے شوہر کی مردانگی، اس کی ماں کی فرمانبرداری پر دلالت کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اس کا یہ احساس کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔
قرآن فرماتا ہے:
تو انہوں نے مریم سے کہا:

اے ہارون کی بہن، تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا اور تیری ماں فاحشہ نہیں تھی۔
انہوں نے اسے اس کے بھائی، اس کے والد اور اس کی ماں کی یاد دلائی۔
کیونکہ ان رشتوں کے نیک سیرت ہونے سے عورت کی اصلاح ہوتی ہے

ایک لڑکی کہتی ہے:
جب میں کسی لڑکی کو دیکھتی ہوں جس نے اپنے آپ کو سنوارا ہے اور اپنی عریانیت میں مبالغہ آرائی کی ہے تو میں اس کے والدین کی طرف دیکھتی ہوں اور اللہ تعالیٰ کا قول یاد آتا ہے۔
[انہیں روکو، وہ ذمہ دار ہیں]
تو میری حیا میں اضافہ ہوجاتا ہے کہ کہیں میری وجہ سے میری ماں سے پوچھ نہ ہو!!

سچ کہوں تو یہ ان مفید عنوانات میں سے ایک ہے جس پر ہمیں سوشل میڈیا پر بات چیت کرنی چاہیے، خدا ان لوگوں پر رحم کرے جنہوں نے اسے منتقل کیا اور اسے اپنے اعمال کے میزان میں توشہ بنایا۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *