تلخ حقیقت

ایک وقت تھا جب برقعہ_عبایہ پردہ_اور_حیا کی علامت کہلاتا تھا۔ پھر برقعے نے ارتقا کا سفر طے کیا اور فٹنگ کی تنگ و تاریک گلیوں سے ہوتا ہوا جسم کے ساتھ ایسا چپکتا گیا کہ اب برقعے کو بھی برقعہ کی ضرورت پڑ گئی ہے اور اب دور جدید کا برقعہ یا عبایہ بے حیائی کا سمبل بن گیا ہے۔۔۔

پھر شلوار اور شلوار سے ٹراؤزر، پھر ٹراؤزر سے سکن ٹائیٹ پاجامے جو آہستہ آہستہ اوپر کو سرک رہے ہیں۔۔۔
سر پہ چادر سے دوپٹہ جو سر سے گلے تک پہنچا اور پھر وہاں سے بھی اب بلکل غائب۔ اب قمیض کا گلا ہے جو آگے اور پیچھے سے نیچے کی طرف سرک رہا ہے۔۔

یہ نشاندہی ہے کہ تربیت گاہ یا_درسگاہ اب ماں کی گود نہیں بلکہ 32 انچ کا ٹی وی اسکرین اور 5 انچ کی موبائل اسکرین ہے۔ ترقی کا سفر ابھی مزید جاری ہے جو مختصر اور تنگ لباسی سے نکل کر بے لباسی کی طرف رواں دواں ہے۔۔ اللہ خیر کرے۔

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں ”

انا_لله_وانا_اليه_راجعون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *