زرا سوچیئے۔

ہم پوری رات اپنی سائیڈ بدل بدل کر سوتے ہیں۔ کیونکہ ہم تھک جاتے ہیں۔

ہر 15 سے 20 یا آدھے گھنٹے بعد سائیڈ بدلتے ہیں۔ اور کبھی کبھی بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ بھی جاتے ہیں۔ مگر آپ سوچئے کہ وہ جگہ ،جہاں پوری زندگی بالکل سیدھا سونا ہے۔ جہاں ہمارے اٹھ بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں ہوگی ۔ اور ہمارے اوپر سلائیڈز رکھ دی جائیں گی۔ پھر بے حساب مٹی ڈال دی جائے گی۔ جس کے بعد اندھیرے، گھٹن اور بالکل ایسی خاموشی ،جس سے کان بھی ترس جائیں کچھ سننے کو۔ توبہ استغفار۔ اور اتنی گرمی ۔نہ دن کا پتہ نہ رات کا۔ انسان روزانہ جی جی کر مرے گا۔ یہ منظر دیکھ دیکھ کر کہ وہ دو گز کی جگہ پہ کتنا بے بس ہے۔ وہاں ہماری کیسے گزرے گی۔ مجھے تو ایسا سوچ کر بہت خوف آتا ہے اور میری سانس پھول جاتی ہے۔آپ سب لوگوں سے التماس ہے کہ پلیز نماز ٹھیک سے قائم کریں اور اللہ پاک سے ہمیشہ مدد کے طلبگار رہیں اللہ پاک ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *