دیکھو ، میں تو یوں مروں گا

ایک درویش ، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو ! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ ، ابھی میں کام میں لگا ہوا ہوں ۔۔۔،
کافی دیر گزر گئی ، اس نے پھر سوال کیا ، کہنے لگا ، لو جی تھوڑا سا کام اور رہ گیا ، کام سے فارغ ہو کے تمہیں دوں گا ۔ ابھی میں مصروف ہوں ۔

وہ درویش غصے میں آگیا _ اور کہنے لگا کہ تم اتنے مصروف ہو تو ، مرو گے کیسے ؟
وہ بھی آگے بولا _ جیسے تُو مرے گا ۔۔!
درویش نے کہا “ہماری موت تو اتنی آسان ہے ، تُو بتا کیسے مرے گا ؟
دیکھو ، میں تو یوں مروں گا ۔” درویش نے ایک چادر بچھائی ، کلمہ پڑھا ، اور مر گیا _
درویش کے مرنے کے بعد اس آدمی پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ ساری دکان لٹا دی اور ہر شئے چھوڑ چھاڑ کے جنگلوں میں نکل گیا ۔

وہ فرید الدین ایک عام آدمی تھا ۔
اب وہ فریدالدین عطار ہو گئے ۔ ان پر راز آشکار ہو گیا ۔ وہ بات سمجھ گئے کہ فقیر کون تھا ؟
فقیر یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ تُو اتنا Busy ہے کہ تجھے مرنے کی سمجھ نہیں آرہی ، تو پھر موت کے وقت کیسے مرے گا ۔
اگر آپ کو موت کے وقت عزرائیل سے تھوڑی سی مہلت ملنے کا امکان ہو تو ، آپ اسے بھی یہ کہہ دو گے کہ ٹھہر جاؤ ،
ابھی دوچار خطوں کے جواب دینے ہیں ۔۔۔، کسی کے پاس جانا ہے ۔۔۔، آج تو فنکشن ہے ۔۔۔۔، شادی ہو رہی ہے ۔۔۔۔، آج ذرا چابیاں دے لوں اور ابھی ذرا وصیت نامہ لکھ دوں ۔
مگر ، موت کی تکلیف کا ادراک رکھنے والے _ معرفتِ الٰہی کو پا جاتے ہیں۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *