نماز پڑھنے لگی تو اچانک اندازہ ہوا کہ کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی ہے-

اج موٹروے سے ملتان کے لئے سفر کرتے ہوئے راستے میں مغرب کی نماز کے لئے رکے- خواتین کی نماز کے لئے مختص ایریا میں ابھی کھڑے کھڑے جگہ کا جائزہ ہی لے رہی تھی کہ اوپر نیچے کی عمر کے چار بچے کھیلتے کودتے کمرے میں داخل ہوئے -ان میں سے ایک بچہ اذان دینے لگا- میں نماز پڑھنے لگی تو اچانک اندازہ ہوا کہ کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی ہے-

وہ چاروں بچے مجھ سے آگے صف میں ترتیب سے کھڑے ہو گئے- قیام میں کھڑے چاروں بچے با ادب کھڑے تھے ایک بچہ مسلسل اونچی آواز میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے لگا شاید سب سے چھوٹے بچے کی تلاوت ہے-
میری نماز مسلسل اس بچے کی تلاوت سے ٹکرا کر محظوظ ہو رہی تھی- میں سلام پھیر کر بیٹھ گئی اور بچوں کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی- جیسے ہی بچوں نے سلام پھیرا میں نے محبت سے ان کو سلام کیا – پوچھا سب سے چھوٹے کا کیا نام ہے ، ابراہیم ہیں بڑے کا نام محمد ہے – بڑی بیٹی آٹھ سال کی تھی وہی سب کا تعارف کروانے لگی

میں نے پوچھا ابراہیم آپ اونچی تلاوت سے نماز پڑھ رہے تھے تو بڑی بچی نے ایک دم سے جواب دیا نہیں وہ تو میں تھی – ابراہیم ابھی چار سال کا ہے اس کو نماز سکھا رہی ہوں تو میں اونچی آواز میں نماز پڑھتی ہوں – مجھے ان بچوں پر اور ساتھ بیٹھی ان کی والدہ پر بے حد پیار آیا دل چاہا ان کے ماتھے چوموں ان کو بوسے دوں کیسی محبت سے نماز کو اپنا رہے ہین-
سوچئے ، چار بچوں میں جن میں سب سے بڑے بچے کی عمر آٹھ سال اور سب سے چھوٹے کی عمر چار سال ہو تو باقی دو کی عمریں آٹھ اور چارسال کے درمیان ہی ہوں گی- اس عمر میں پختگی کا یہ عالم کہ چھوٹا بچہ والدہ کے ساتھ نماز نہیں سیکھ رہا بلکہ آٹھ سالہ بہن ان کی نماز کی معلمہ ہے –
میں نے تجسس سے پوچھا آپ کتنی نمازیں پڑھتے ہو، ابراہیم ، وہ موٹی موٹی آنکھیں کھولے حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا جیسے سوال سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے دوسرے بچے ہنسنے لگے کہنے لگا ابراہیم فجر نہیں پڑھتا باقی ساری نمازیں پڑھتا ہے – میں نے بڑی بیٹی سے پوچھا اگر آپ کو کچھ چاہیے ہو تو آپ اللہ سے مانگتی ہو یا اماں ابا سے ، کہنے لگی اللہ سے؛ میں نے سوال کیا پھر کیا ہوتا ہے وہ چیز مل جاتی ہے یا نہیں اس بچی کے جواب نے مجھے حیران کر دیا ، کہنے لگی کبھی مل جاتی ہے کبھی نہیں مگر جب نہیں ملتی تو اس سے بہتر چیز مل جاتی ہے –

ایک آٹھ سالہ بچی سے یہ جواب سن کر مجھے لگا اس کی تفصیل تو معلوم کر لوں ، کہنے لگی ایک روز مجھے آئس کریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا ، ابا نے آئس کریم تو نہیں کھلائی مگر ہمارے لئے سٹرا بیریز اور کیلے لے آئے، ہم نے پھل بھی کھائے ماما نے ان کا شیک بھی بنا کر دیا دو تین دن تک ہم یہ کھاتے رہے سوچیں اگر آئس کریم بابا لے آتے تو لمحوں میں ختم ہو جاتی-

ننھی منی معصومانہ سوچ نے اندر کی دنیا کو خوش کر دیا- برقعے میں ملبوس والدہ کو مبارک دی کہ بچوں کو اس عمر میں نماز کی ایسی دل لگی اور شوق پیدا کر رہی ہیں کہ سفر میں جبکہ ہم بھلے چنگے بھی نماز قضا کر لیتے ہیں لاہور کے یہ ننھے مسافر، قیام گاہ پر نماز قصر ادا کر رہے ہیں اللہ اکبر-

آج دل خوش یو گیا ، سعودی عرب کی یادیں تازہ ہو گئیں کہ اذان ہو جائے تو پارک سے کھیلتے کودتے بچے نماز کی جماعت کے لئے کھڑے ہوتے ہین- بازار بند ہو جاتے ہیں کام رک جاتے ہیں جاگتی آنکھوں اور ہوش اور حواس کے ساتھ کوئی نماز کو قضا کرنے کا سوچ ہی نہیں سکتا-

سلام ہے ان ماوں کو جو اپنے بچوں کو نماز کی رغبت دلاتی ہیں، یہ بتاتی ہیں کہ یہ مالک کا حکم ہے اور دن میں پانچ مرتبہ اس کے حضور حاضری فرض ہے- جس نے نماز کو پکڑ لیا قائم کیا اس نے رب کی رحمت کا راز پا لیا، جو رب کے حضور پانچ وقت شرمندگی اور دل کی تمام تر توجہ سے حاضر ہوا اس نے اپنے دن کو ضائع ہونے سے بچا لیا-

میں نے والدہ سے اجازت لی کہ آپ کے بچوں کی تصویر لے لوں تو انہوں نے کمال فراخ دلی سے اجازت دے دی- بچوں کو کہا کہ سب زرا پھر سے کھڑے ہو جائیں تا کہ میں تصویر بنا لوں اور ننھے ابراہیم نے تصویر سے بے نیاز ہو کر پھر نماز پڑھنا شروع کر دی سجدہ ریز ہوا تو دل نے کہا مالک کو ان معصوم بچوں کے سجدوں پر کتنا پیار آتا ہو گا اور ان حسین اداؤں کے طفیل وہ کیا کیا عطاؤں کے سلسلے ہوں گے جن سے میں اور آپ فیضیاب ہو رہے ہیں وہ تو بس مالک ہی جانتا ہے – مالک ہماری اولادوں کو اور ہم کو اپنی راہ کی طرف موڑ دے اور ہم کو شوق والی عبادت اور ذوق والے سجدے عطا کر کہ ہم تجھ کو منا لیں -“
رفعت شمس

منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *