تھوڑا سا احساس، چند میٹھے بول ہماری زندگی کو کتنا آسان کر دیتا ہے

پہلا انداز:
شوہر : میری شرٹ استری نہیں کی تم نے ؟
بیوی : وقت ہی نہیں ملا…… لائیں ، اب کر دیتی ہوں.شوہر: وقت کیوں نہیں ملتا ؟ تم لوگوں کا گھر پر سارا دن کام ہی کیا ہوتا ہے بھلا ؟ بس ٹی وی دیکھو ، فیس بک پر مصروف رہو ، فون پر گپیں لگاؤ ، اور بس !
بیوی: تو آپ کونسا ہل چلا کر آتے ہیں یا پھر مزدوری کرکے آرہے ہیں؟

صبح گئے آفس میں دن بھر گپیں، چائے کافی، اسی طرح بیٹھے رہے اور شام کو اٹھ کر گھر آگئے بس ۔ کام تو سارا ہم کرتے ہیں . گھر سنبھالو ، بچے سنبھالو ، دن کا پتہ چلتا ہے نہ رات کا……..

دوسرا انداز:
شوہر: میری شرٹ استری نہیں کی تم نے ؟
بیوی: وقت ہی نہیں ملا،….. لائیں ، اب کر دیتی ہوں

شوہر: آرام کر لو اب. تم ویسے بھی گھر سنبھالتی ہو، بچوں کے سب کام، انہیں پڑھانا اور ہوم ورک کروانا ، گھر والوں کا خیال رکھنا ۔۔۔ یقیناً تھک جاتی ہو . میں خود استری کر لیتا ہوں. یہ کون سا مشکل کام ہے ابھی کرلیتا ہوں.

بیوی: آپ بھی تو صبح سے کام پر جاتے ہیں ، ہمارے لیے تھکتے ہیں ، آپ کے کپڑے پرانے ہوگئے، شرٹس کا رنگ خراب ہو گیا ہے لیکن سب کچھ ہم پر خرچ کر دیتے ہیں، اپنے کپڑوں کی تو کیا اپنی بھی پرواہ نہیں کرتے، تپتی دھوپ ہو یا برستی بارش ، صبح کے گئے شام کو واپس آتے ہیں. رہنے دیں ، میں آپکو فارغ ہوتے ہی استری کر دیتی ہوں”
غور کیجئے: بس اتنا سا فرق ہے !
پہلے انداز میں صرف اپنے حقوق کی بات کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف اپنے علاوہ دوسرے کا خیال بھی.

تھوڑا سا احساس، چند میٹھے بول ہماری زندگی کو کتنا آسان کر دیتا ہے. ہمیں اپنے رشتوں اور تعلقات میں تحمل، برداشت، احساس کو اہمیت دیتے ہوئے برتاؤ کرنا ہو گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *