ایک آدمی نے ایک طوطا پالا

ایک آدمی نے ایک طوطا پالا,
طوطا مزے مزے کی باتیں بھی کیا کرتا تھا, وہ آدمی اکثر سفر پہ جاتا تو واپسی میں طوطے کیلئے کچھ نہ کچھ لے کے آیا کرتا تھا,

ایک دن جب وہ آدمی سفر پہ جانے لگا تو
طوطے سے پوچھا کہ میں فلاں جگہ سفر پہ جا رہا ہوں, تو بتاؤ واپسی پہ تمہارے لئے کیا چیز لے کے آؤں,
طوطے نے کہا کہ حضور مجھے کچھ نہیں چاہیے, بس میرا ایک کام کر دیجئے گا, جس راستے پر آپ جا رہے ہیں تو اسی راستے پر آگے ایک جنگل آئے گا , وہاں میرے ساتھی طوطے ہوں گے, ان کو میرا پیغام دیجئے گا کہ تم وہاں آزادی کی زندگی جی رہے اور مٹھو ادھر پنجرے میں بند ہے,
تو اس آدمی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہارا پیغام ضرور پہنچاؤں گا, اور سفر پہ نکل گیا,

چلتے چلتے جب اس جنگل میں پہنچا تو وہاں طوطوں کو دیکھ کر رک گیا اور ان سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ میرے طوطے نے تمہارے لئے پیغام بھیجا ہے کہ تم یہاں آزادی کی زندگی جی رہے ہو اور مٹھو پنجرے میں بند ہے,
یہ سنتے ہی ان کا جو بڑا گرو طوطا تھا وہ زمین پر گرا اور مر گیا, یہ دیکھتے ہی باقی سارے طوطے بھی زمین پر گرے اور مر گئے, وہ آدمی بڑا حیران ہوا کہ اچانک یہ کیا ماجرا ہو گیا!

جب سفر سے واپس آیا, تو آتے ہی سارا واقعہ اپنے طوطے کو سنادیا, سنتے ہی وہ بھی پنجرے میں گرا اور مر گیا,
اس آدمی کو طوطے کے مرنے کا بہت دکھ ہوا ,اور پنجرے سے نکال کر باہر پھینک دیا,
جونہی اس نے باہر پھینکا تو طوطا اڑ کر درخت پر بیٹھ گیا, وہ آدمی بڑا حیران رہ گیا اور طوطے سے پوچھنے لگا, کہ آخر ماجرا کیا ہے ؟
تو اس پر طوطا نے جواب دیا کہ میرے ساتھی طوطوں نے ایسا کرکے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ موت سے پہلے مر جاؤ آزاد ہو جاؤ گے……
اس واقع سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان اپنی انا اور اپنے تکبر کو موت سے پہلے مار دے تو آزاد ہو جائے گا ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *