ہزار روپے کا کمال

چھ مہینے پہلے ایک غریب سی خاتون کورنگی سے اپنی 11 سالہ لاغر سی بھتیجی کے ساتھ میرے آفس آٸی اور بتایا کہ اس کا بھاٸی اور اس بچی کا باپ نفسیاتی مریض ہے اور گھر میں سب سے لڑتا ہے اور بیوی بچوں کو مارتا ہے ۔ سنا تھا آپ غریب مریضوں کو فری میڈیسن دے دیتے ہیں ۔ بچی سے اسکے والد کے بارے میں تفصیل پوچھ لیں اور مدد کردیں آپکو دعاٸیں گے ۔

میں نے بچی سے تفصیل پوچھی تو بچی انتہاٸی سمجھداری سے اپنے والد کی بیماری کے بارے میں بتانے لگی ۔ میں نے پوچھا بیٹا تم کس کلاس میں پڑھتی ہو تو کہنے سر چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی اب اسکول نہیں جاتی ۔ باپ زہنی مریض ہونے کی وجہ سے دو سال سے کام نہیں کرتا اور ماں دوسروں کے گھروں میں کام کرکے ہمیں پال رہی ہے ۔ اسکول کی کتابوں اور فیس کے لیے پیسے نہیں ہیں اس لیے اسکول جانا چھوڑ دیا ۔

میں نے کہا چلو اگر کتابیں اور فیس میں دے دوں تو اسکول جاٶ گی تو رونے لگی کہ انکل چھوٹے دونوں بہن بھاٸی بھی نہیں جاتے ۔ اکیلے میں کیسے جاٶنگی ۔ میں نے فیس پوچھی تو کہنے لگی کہ ہر ایک کی ایک ہزار روپیہ مہاہانہ فیس ہے ۔ میں نے کہا تینوں کی فیس دے دیا کرونگا ۔ روتے روتے کہنے لگی انکل ہم نے کبھی کسی سے پیسے نہیں مانگے ۔ شرم آتی ہے آپ سے کیسے مانگا کرینگے ہر مہینے ۔ میں نے کہا بٹیا بنا مانگے ہی مل جایا کرے گی ۔

مریض کی دواٸی تو دینا ہی تھی ۔ ان تینوں بچوں کی کتابوں اور ایک ماہ کی فیس کا بندوبست کر دیا اور بچی سے وعدہ لیا کہ کل سے ہی چھوٹے دونوں بہن بھاٸیوں کے ساتھ دوبارہ اسکول جانا شروع کرو ۔ پھر اسکول کے آفس کو چپ چاپ انکی فیس بھجواتے رہے ۔ چھ مہینے میں بچی نے صرف ایک آدھ دفعہ مزید کتابیں خریدنے کیلیے کچھ پیسے مانگے ۔

آج اپنے چھوٹے ماموں کے ساتھ یہ بچی دوبارہ میرے آفس آٸی صاف ستھرے کپڑوں میں بہت خوش لگ رہی تھی ۔ مٹھاٸی کا چھوٹا سا ایک پیکٹ میری آفس ٹیبل پر رکھا ۔ اور ایک شاپر سے مارکس شیٹ اور میڈل نکال کر میرے سامنے رکھا اور کہا انکل یہ آپ کیلیے ہے ۔ میں نے چھٹی کلاس میں فرسٹ پوزیشن لے لی ہے اور ساتویں کاس میں چلی گٸی ہوں ۔ میں کبھی بچی کو دیکھ رہا تھا کبھی میڈل اور مارکس شیٹ کو ۔ کہنے لگی انکل اب ابو بھی بہتر ہیں اور ہمیں مارتے بھی نہیں ہیں ۔

میں نے اپنی آنکھیں خشک کرکے میڈل اسکےگلے میں ڈالا اور مارکس شیٹ ہاتھ میں دیکر اسکی تصویر لی ۔ کہنے لگی انکل آپکا بہت شکریہ اور اگر آپ آٸیندہ فیس دیتے رہے تو میں بھی آپکی طرح ڈاکٹر بن کر لوگوں کی مدد کیا کرونگی ۔

میں نے بچی کو اس وعدے کے ساتھ محبت سے رخصت کیا کہ فیس ملتی رہے گی ۔ بہت دل چاہا کہ جاکر اس اسکول کے مالک کا بھی شکریہ ادا کروں جو بچوں کو صرف ایک ہزار روپیے ماہانہ فیس اچھی تعلیم و تربیت دے رہا ہے اور بچے ڈاکٹر بننے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں ۔
اللہ کرے میرے جیتے جی اس بچی کے خواب سچ ہو جاٸیں ۔

(ہزار روپے زیادہ تو نہیں ہے؟ اپنے آس پاس دیکھئیے،،ہو سکتا کسی کا مستقبل آپ کے سہارے کی انتظار میں ہو)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *