دغا باز درزی

یہ سردیوں کی ٹھنڈی راتیں تھیں۔ بہت سے دوست علاقے کے ڈھابے میں بیٹھے قہوے سے اپنے وجود کی سردی کو زائل کر رہے تھے۔ آدمیوں کی محفل تھی ہنسی مذاق اور تفریح کی باتیں ہوتی رہی۔ کوئی اپنے کاروبار کی بات کرتا تو کسی کو اپنے دکھ نے ستایا تھا اور وہ اپنا وہی دکھ دوستوں سے بیان کر رہا تھا۔ ایک بولا کہ

دوستوں مجھے کسی درزی نے بے وقوف بنایا۔ دوستوں کے مجمع میں سے آواز نکلی کہ کیسے؟ وہ بولا کہ میں نے اس کو اپنا کپڑا سینے کو دیا اس نے ایک تو سلائی اچھی نہیں کی اوپر سے رقم بھی دگنی لی۔ اور اتنا جاہل انسان ہے کہ کوئی بات سن ہی نہیں رہا۔ اس کی بات سننے کے بعد ایک دوست نے کہا ایمانداری تو کہیں دور رہ گئی ہے بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں مشکل سے کوئی ایسا درزی ملے جو آپ کا کام بھی کر لے اور آپ کو خوش بھی۔ تیسرا دوست بولا یہ تو کوئی بھی نہیں اجمل نامی درزی والے کو جانتے ہو وہ تو مجھے درزی کم چور زیادہ لگتا ہے۔ وہ تو کپڑا ہی چرا لیتا ہے۔ اس کی بات سن کر پہلا دوست بولا جس کا نام فرید تھا اچھا ایسا ہے کیا کل پھر میں اس کے پاس جاؤں گا اور اپنے کپڑے سلائی کے لیے دوں گا اس نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ دوست بولے وہ بہت شاطر چور ہے اتنی مہارت سے چوری کرتا ہے کہ

آپ کے اگلے پچھلوں کو بھی خبر نہیں رہتی۔ مگر فرید نے ٹھان لیا تھا کہ وہ اس کا امتحان لے گا تو بس لے گا لہذا رات جیسی تیسی گذار دی اور اگلے روز کپڑے کی تان لے کر وہ اجمل درزی کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے اجمل سے کہا کہ کیا تم اجمل ہو؟ اس نے خوش اسلوبی سے جواب دیا جی ہاں میں ہی ہوں۔ وہ بولا اچھا تم مجھے یہ کپڑا سی دو۔ اجمل بولا جی ضرور کیوں نہیں رکھیں کپڑا یہاں پر۔ اجمل کی بے جا اخلاقی دیکھ کر فرید سوچنے لگا کہ خواہ مخواہ میرے دوست بات کی کھال اتار دیتے ہیں اتنا اچھا بندہ تو ہے۔ اب وہ اجمل درزی سے باتوں میں مشغول ہو گیا۔ اجمل درزی کو لوگوں کو اپنی باتوں میں پھانسنے میں مہارت حاصل تھی وہ آسانی سے کسی کے بھی دل میں جگہ بنا لیتا تھا۔ اب وہ قینچی لے کر اس کپڑے کی تان کو کاٹنے لگا۔ اور ساتھ ساتھ فرید سے باتوں میں بھی مصروف تھا۔ وہ فرید سے بولا کہ چلیں صاحب آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں۔ جب اجمل نے اسے لطیفہ سنایا تو فرید اس زور سے ہنسا کہ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اسی دوران اجمل کپڑے کو آہستہ آہستہ بڑے بڑے ٹکڑوں میں کاٹ کر چھپا لیتا۔ کافی دیر تک اس نے ایسا ہی کیا۔ جب کپڑا کاٹ کاٹ کر چھوٹا ہو گیا تو اجمل درزی اس سے بولا بھائی صاحب اس چھوٹے سے کپڑے کا میں کیا کروں آپ یہ لے جائیں۔ فرید غصے اور حیرت سے بولا ارے بھئی میں نے اچھا خاصا بڑا کپڑا دیا تھا۔ مگر کوئی ثبوت ہوتا تو وہ کچھ کہتا۔ لہذا خاموش زبان اور خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا دوستوں یہ ایک فرضی کہانی ہے مگر ہم سب زندگی کی رنگینیوں میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ لغو باتوں اور کاموں میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں اور وہ جس طرح درزی اس قینچی سے اس کپڑے کے ٹکڑے کر رہا تھا ٹھیک اسی طرح ہماری زندگی کے شب و روز بھی اسی قینچی کی طرح کٹ رہے ہیں۔ نہ کسی چیز کی ہمیں فکر ہے نہ ہی ہم اس کے لیے محنت کر رہے ہیں بس ہنسی مذاق ہم نے اپنی زندگی کا مقصد بنا دیا ہے۔ یہ وقت جو مٹھی میں ہے اس کو اچھے سے استعمال کریں کیوں کہ ایک بار یہ مٹھی سے پھسل گیا پھر ہم اسے اپنی مٹھی میں قید نہیں کر سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *